كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ کتاب: جزیہ وغیرہ کے بیان میں

style="display:none" >حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ، وَقَالَ: الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ".

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔

صحيح البخاري # 3186
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp