كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا الزهري، قال: اخبرني انس بن مالك، ان ناسا من الانصار، قالوا: لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم من اموال هوازن ما افاء، فطفق يعطي رجالا من قريش المائة من الإبل، فقالوا: يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويدعنا وسيوفنا تقطر من دمائهم، قال انس فحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم بمقالتهم فارسل إلى الانصار فجمعهم في قبة من ادم ولم يدع معهم احدا غيرهم فلما اجتمعوا جاءهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" ما كان حديث بلغني عنكم، قال: له فقهاؤهم اما ذوو آرائنا يا رسول الله فلم يقولوا شيئا واما اناس منا حديثة اسنانهم، فقالوا: يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويترك الانصار وسيوفنا تقطر من دمائهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني اعطي رجالا حديث عهدهم بكفر اما ترضون ان يذهب الناس بالاموال وترجعوا إلى رحالكم برسول الله صلى الله عليه وسلم فوالله ما تنقلبون به خير مما ينقلبون به، قالوا: بلى يا رسول الله قد رضينا، فقال: لهم إنكم سترون بعدي اثرة شديدة فاصبروا حتى تلقوا الله ورسوله صلى الله عليه وسلم على الحوض، قال انس: فلم نصبر".

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے بعض آدمیوں کو (تالیف قلب کی غرض سے) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا۔ حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ (قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا) انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلایا۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں جو عقل والے ہیں، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے۔ (اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ کو لے کر واپس جا رہے ہو گے۔ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔ سب انصاریوں نے کہا: بیشک یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا، (دنگا فساد نہ کرنا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا۔

صحيح البخاري # 3147
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp