كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله الانصاري، قال: ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم، فقالت الانصار: لا نكنيك ابا القاسم ولا ننعمك عينا، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، ولد لي غلام فسميته القاسم، فقالت الانصار: لا نكنيك ابا القاسم ولا ننعمك عينا فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" احسنت الانصار سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي فإنما انا قاسم".

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابوسالم نے ‘ ان سے ابوالجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا ‘ انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے یہ سن کر وہ انصاری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار نے ٹھیک کہا ہے میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت مت رکھو ‘ کیونکہ قاسم میں ہوں۔

صحيح البخاري # 3115
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp