حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو: وابن جريج سمعت عطاء، يقول: ذهبت مع عبيد بن عمير إلى عائشة رضي الله عنها، وهي مجاورة بثبير، فقالت:" لنا انقطعت الهجرة منذ فتح الله على نبيه صلى الله عليه وسلم مكة".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو اور ابن جریح بیان کرتے تھے کہ ہم نے عطا سے سنا تھا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ ثبیر پہاڑ کے قریب قیام فرما تھیں۔ آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح دی تھی ‘ اسی وقت سے ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا (ثبیر مشہور پہاڑ ہے)۔