كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ کتاب: جہاد کا بیان

حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس بن مالك رضي الله عنه، قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" اخذ الراية زيد فاصيب، ثم اخذها جعفر فاصيب، ثم اخذها عبد الله بن رواحة، فاصيب ثم اخذها خالد بن الوليد، عن غير إمرة ففتح عليه وما يسرني او، قال: ما يسرهم انهم عندنا، وقال: وإن عينيه لتذرفان".

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ میں) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘ (جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم (جھنڈا) زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا، پھر جعفر نے عَلم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے عَلم تھاما ‘ یہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی عَلم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ (شہداء) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔ (کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں) اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

صحيح البخاري # 3063
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp