حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال: اخبرني زيد هو ابن اسلم، عن ابيه، قال: كنت مع عبد الله بن عمر رضي الله عنهما بطريق مكة فبلغه عن صفية بنت ابي عبيد شدة وجع، فاسرع السير حتى إذا كان بعد غروب الشفق، ثم نزل فصلى المغرب والعتمة يجمع بينهما، وقال: إني رايت النبي صلى الله عليه وسلم" إذا جد به السير اخر المغرب، وجمع بينهما".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا، اتنے میں ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا (ان کی بیوی) کے متعلق سخت بیماری کی خبر ملی۔ چنانچہ آپ نے تیز چلنا شروع کر دیا اور جب (سورج غروب ہونے کے بعد) شفق ڈوب گئی تو آپ سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی، پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ سفر کرنا چاہتے تو مغرب میں تاخیر کر کے دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا فرماتے۔