كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ کتاب: جہاد کا بیان

حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا عبدة، عن هشام، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، قال:" خرجنا ونحن ثلاث مائة نحمل زادنا على رقابنا ففني زادنا حتى كان الرجل منا ياكل في كل يوم تمرة، قال رجل: يا ابا عبد الله، واين كانت التمرة تقع من الرجل، قال: لقد وجدنا فقدها حين فقدناها حتى اتينا البحر، فإذا حوت قد قذفه البحر فاكلنا منه ثمانية عشر يوما ما احببنا".

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم (ایک غزوہ پر) نکلے۔ ہماری تعداد تین سو تھی، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آخر ہمارا توشہ جب (تقریباً) ختم ہو گیا، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی۔ ایک شاگرد نے پوچھا، اے ابوعبداللہ! (جابر رضی اللہ عنہ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے۔

صحيح البخاري # 2983
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp