كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ کتاب: جہاد کا بیان

حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن قتادة، قال: سمعت انسا رضي الله عنه، يقول: لما اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان يكتب إلى الروم قيل له: إنهم لا يقرءون كتابا إلا ان يكون مختوما، فاتخذ خاتما من فضة فكاني انظر إلى بياضه في يده ونقش فيه محمد رسول الله".

ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی قتادہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ سربمہر نہ ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے۔ اس انگوٹھی پر محمد رسول اللہ کھدا ہوا تھا۔

صحيح البخاري # 2938
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp