كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ کتاب: جہاد کا بیان

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثني إسماعيل، قال: حدثني اخي، عن سليمان اراه، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن خارجة بن زيد، ان زيد بن ثابت رضي الله عنه، قال نسخت الصحف في المصاحف، ففقدت آية من سورة الاحزاب كنت اسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم" يقرا بها فلم اجدها إلا مع خزيمة بن ثابت الانصاري الذي جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته شهادة رجلين" وهو قوله" من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه" سورة الاحزاب آية 23.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ‘ دوسری سند اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان نے ‘ میرا خیال ہے کہ محمد بن عتیق کے واسطہ سے ‘ ان سے ابن شہاب (زہری) نے اور ان سے خارجہ بن زید نے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب قرآن مجید کو ایک مصحف (کتابی) کی صورت میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر آپ کی تلاوت کرتے ہوئے سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه‏» (سورۃ الاحزاب: 23) مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔

صحيح البخاري # 2807
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp