حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال: اخبرني عروة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اراد سفرا اقرع بين نسائه، فايتهن خرج سهمها خرج بها معه، وكان يقسم لكل امراة منهن يومها وليلتها، غير ان سودة بنت زمعة وهبت يومها وليلتها لعائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، تبتغي بذلك رضا رسول الله صلى الله عليه وسلم".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں میں قرعہ اندازی فرماتے اور جس کا نام نکل آتا، انہیں اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی معمول تھا کہ اپنی ہر بیوی کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر کر دی تھی۔ البتہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے (اپنی عمر کے آخری دور میں) اپنی باری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کو رضا حاصل ہو (اس سے بھی قرعہ اندازی ثابت ہوئی)۔