كِتَاب الشَّهَادَاتِ کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

style="display:none" >حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" سَأَلَنِي يَهُودِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ، أَيَّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى حَبْرِ الْعَرَبِ، فَأَسْأَلَهُ، فَقَدِمْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:قَضَى أَكْثَرَهُمَا، وَأَطْيَبَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ فَعَلَ".

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی، ان سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ حیرہ کے یہودی نے مجھ سے پوچھا، موسیٰ علیہ السلام نے (اپنے مہر کے ادا کرنے میں) کون سی مدت پوری کی تھی؟ (یعنی آٹھ سال کی یا دس سال کی، جن کا قرآن میں ذکر ہے) میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، ہاں! عرب کے بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں (تو پھر تمہیں بتا دوں گا) چنانچہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے بڑی مدت پوری کی (دس سال کی) جو دونوں مدتوں میں بہتر تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب کسی سے وعدہ کرتے تو پورا کرتے تھے۔

صحيح البخاري # 2684
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp