حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب، عن ام سلمة رضي الله عنها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" إنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم الحن بحجته من بعض، فمن قضيت له بحق اخيه شيئا بقوله فإنما اقطع له قطعة من النار، فلا ياخذها".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے، ان سے زینب نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم لوگ میرے یہاں اپنے مقدمات لاتے ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک تم میں دوسرے سے دلیل بیان کرنے میں بڑھ کر ہوتا ہے (قوت بیانیہ بڑھ کر رکھتا ہے) پھر میں اس کو اگر اس کے بھائی کا حق (غلطی سے) دلا دوں، تو وہ حلال (نہ سمجھے) اس کو نہ لے، میں اس کو دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔“