كِتَاب الشَّهَادَاتِ کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، اخبرنا ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن بلالا يؤذن بليل، فكلوا واشربوا حتى يؤذن، او قال حتى تسمعوا اذان ابن ام مكتوم"، وكان ابن ام مكتوم رجلا اعمى، لا يؤذن حتى يقول له الناس اصبحت.

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی سالم بن عبداللہ سے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ سحری کھا پی سکتے ہو یہاں تک کہ (فجر کے لیے) دوسری اذان پکاری جائے۔ یا (یہ فرمایا) یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سن لو۔ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک ان سے کہا نہ جاتا صبح ہو گئی ہے، وہ اذان نہیں دیتے تھے۔

صحيح البخاري # 2656
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp