حدثنا عبد الله بن عثمان بن جبلة، قال: اخبرني ابي، عن شعبة، عن سلمة، قال: سمعت ابا سلمة، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: كان لرجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم دين، فهم به اصحابه، فقال: دعوه، فإن لصاحب الحق مقالا، وقال: اشتروا له سنا فاعطوها إياه، فقالوا: إنا لا نجد سنا إلا سنا هي افضل من سنه، قال: فاشتروها، فاعطوها إياه، فإن من خيركم احسنكم قضاء".
ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا (اس نے سختی کے ساتھ تقاضا کیا) تو صحابہ اس کی طرف بڑھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، حق والے کو کچھ نہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے لیے ایک اونٹ اسی کے اونٹ کی عمر کا خرید کر اسے دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی کو خرید کر دے دو کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرض کے ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔