حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عباد بن عبد الله، عن اسماء رضي الله عنها، قالت: قلت: يا رسول الله، ما لي مال إلا ما ادخل علي الزبير، فاتصدق؟ قال:" تصدقي، ولا توعي فيوعى عليك".
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عباد بن عبداللہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس صرف وہی مال ہے جو (میرے شوہر) زبیر نے میرے پاس رکھا ہوا ہے تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ کرو، جوڑ کے نہ رکھو، کہیں تم سے بھی۔ (اللہ کی طرف سے نہ) روک لیا جائے۔“