حدثنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا ابو اسامة، حدثنا إسماعيل، عن قيس، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال:" لما قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم، قلت في الطريق: يا ليلة من طولها وعنائها على انها من دارة الكفر نجت"، قال: وابق مني غلام لي في الطريق، قال: فلما قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم بايعته، فبينا انا عنده إذ طلع الغلام، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابا هريرة، هذا غلامك؟ فقلت: هو حر لوجه الله، فاعتقته". قال ابو عبد الله: لم يقل ابو كريب عن ابي اسامة حر.
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آتے ہوئے راستے میں یہ شعر کہا تھا: ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام پر قائم رہنے کے لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ دیکھ تیرا غلام بھی آ گیا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! وہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ پھر میں نے اسے آزاد کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکریب نے (اپنی روایت میں) ابواسامہ سے یہ لفظ نہیں روایت کیا کہ وہ آزاد ہے۔