كِتَاب الْعِتْقِ کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم التيمي، عن علقمة بن وقاص الليثي، قال: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" الاعمال بالنية، ولامرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه".

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے، ان سے علقمہ بن وقاص لیثی نے، کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق پھل ملتا ہے۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے تو یہ ہجرت محض اسی کے لیے ہو گی جس کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

صحيح البخاري # 2529
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp