كِتَاب الْعِتْقِ کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

حدثنا احمد بن مقدام، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، اخبرني نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، انه كان يفتي في العبد او الامة يكون بين شركاء فيعتق احدهم نصيبه منه، يقول: قد وجب عليه عتقه كله إذا كان للذي اعتق من المال ما يبلغ، يقوم من ماله قيمة العدل، ويدفع إلى الشركاء انصباؤهم، ويخلى سبيل المعتق". يخبر ذلك ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم. ورواه الليث، وابن ابي ذئب، وابن إسحاق، وجويرية، ويحيى بن سعيد، وإسماعيل بن امية، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم مختصرا.

ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نافع نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غلام یا باندی کے بارے میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ اگر وہ کئی ساجھیوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اس شخص پر پورے غلام کے آزاد کرانے کی ذمہ داری ہو گی لیکن یہ اس صورت میں جب شخص مذکور کے پاس اتنا مال ہو جس سے پورے غلام کی قیمت ادا کی جا سکے۔ غلام کی مناسب قیمت لگا کر دوسرے ساجھیوں کو ان کے حصوں کے مطابق ادائیگی کر دی جائے گی اور غلام کو آزاد کر دیا جائے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے اور لیث بن ابی ذئب، ابن اسحاق، جویریہ، یحییٰ بن سعید اور اسماعیل بن امیہ بھی نافع سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر طور پر۔

صحيح البخاري # 2525
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp