كِتَاب الْغُسْل کتاب: غسل کے احکام و مسائل

حدثنا عبدان، قال: اخبرنا عبد الله، قال: اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، قالت:" سترت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يغتسل من الجنابة فغسل يديه، ثم صب بيمينه على شماله فغسل فرجه وما اصابه، ثم مسح بيده على الحائط او الارض، ثم توضا وضوءه للصلاة غير رجليه، ثم افاض على جسده الماء، ثم تنحى فغسل قدميه"، تابعه ابو عوانة، وابن فضيل في الستر.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، وہ سالم بن ابی الجعد سے، وہ کریب سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر (دھویا) پھر نماز کی طرح وضو کیا۔ پاؤں کے علاوہ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا۔ اس حدیث میں ابوعوانہ اور محمد بن فضیل نے بھی پردے کا ذکر کیا ہے۔

صحيح البخاري # 281
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp