وعن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا ايوب يغتسل عريانا فخر عليه جراد من ذهب، فجعل ايوب يحتثي في ثوبه، فناداه ربه: يا ايوب، الم اكن اغنيتك عما ترى؟ قال: بلى وعزتك، ولكن لا غنى بي عن بركتك"، ورواه إبراهيم، عن موسى بن عقبة، عن صفوان، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: بينا ايوب يغتسل عريانا.
اور اسی سند کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ (ایک بار) ایوب علیہ السلام ننگے غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ پر گرنے لگیں۔ ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ اتنے میں ان کے رب نے انہیں پکارا۔ کہ اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بےنیاز نہیں کر دیا، جسے تم دیکھ رہے ہو۔ ایوب علیہ السلام نے جواب دیا ہاں تیری بزرگی کی قسم۔ لیکن تیری برکت سے میرے لیے بے نیازی کیونکر ممکن ہے۔ اور اس حدیث کو ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے، وہ صفوان سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ ابوہریرہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس طرح نقل کرتے ہیں ” جب کہ ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے “ (آخر تک)۔