كِتَاب الْغُسْل کتاب: غسل کے احکام و مسائل

حدثنا ابو الوليد، قال: حدثنا زائدة، عن ابي حصين، عن ابي عبد الرحمن، عن علي، قال: كنت رجلا مذاء، فامرت رجلا ان يسال النبي صلى الله عليه وسلم لمكان ابنته، فسال، فقال:" توضا واغسل ذكرك".

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے ابوحصین کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا) تھیں۔ اس لیے میں نے ایک شخص (مقداد بن اسود اپنے شاگرد) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو (یہی کافی ہے)۔

صحيح البخاري # 269
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp