كِتَاب الْغُسْل کتاب: غسل کے احکام و مسائل

حدثنا ابو نعيم، قال: حدثنا معمر بن يحيى بن سام، حدثني ابو جعفر، قال: قال لي جابر: واتاني ابن عمك يعرض بالحسن بن محمد بن الحنفية، قال: كيف الغسل من الجنابة؟ فقلت" كان النبي صلى الله عليه وسلم ياخذ ثلاثة اكف ويفيضها على راسه، ثم يفيض على سائر جسده، فقال لي الحسن: إني رجل كثير الشعر، فقلت: كان النبي صلى الله عليه وسلم اكثر منك شعرا".

ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر بن یحییٰ بن سام نے روایت کیا، کہا کہ ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر نے بیان کیا کہ میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے (ان کی مراد حسن بن محمد ابن حنفیہ سے تھی) آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ جنابت کے غسل کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین چلو پانی لیتے اور ان کو اپنے سر پر بہاتے تھے۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہاتے تھے۔ حسن نے اس پر کہا کہ میں تو بہت بالوں والا آدمی ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔

صحيح البخاري # 256
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp