كِتَاب الْغُسْل کتاب: غسل کے احکام و مسائل

حدثنا عبد الله بن محمد، قال: حدثني عبد الصمد، قال: حدثني شعبة، قال: حدثني ابو بكر بن حفص، قال: سمعت ابا سلمة، يقول: دخلت انا واخو عائشة على عائشة، فسالها اخوها عن غسل النبي صلى الله عليه وسلم؟" فدعت بإناء نحوا من صاع، فاغتسلت وافاضت على راسها وبيننا وبينها حجاب"، قال ابو عبد الله: قال يزيد بن هارون، وبهز، والجدي، عن شعبة: قدر صاع.

ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں (ابوسلمہ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ (نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔)

صحيح البخاري # 251
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp