كِتَاب الْمَظَالِمِ کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں

حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بشراب فشرب منه، وعن يمينه غلام، وعن يساره الاشياخ، فقال للغلام: اتاذن لي ان اعطي هؤلاء، فقال الغلام: لا، والله يا رسول الله لا اوثر بنصيبي منك احدا، قال: فتله رسول الله صلى الله عليه وسلم في يده".

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم بن دینار نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ یا پانی پینے کو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر والے تھے۔ لڑکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے اس کی اجازت دو گے کہ ان لوگوں کو یہ (پیالہ) دے دوں؟ لڑکے نے کہا، نہیں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! آپ کی طرف سے ملنے والے حصے کا ایثار میں کسی پر نہیں کر سکتا۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اسی لڑکے کو دے دیا۔

صحيح البخاري # 2451
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp