كِتَاب الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالْحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ کتاب: قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں

حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا فليح، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضي الله عنه، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" ما من مؤمن إلا وانا اولى به في الدنيا والآخرة، اقرءوا إن شئتم النبي اولى بالمؤمنين من انفسهم سورة الاحزاب آية 6، فايما مؤمن مات وترك مالا فليرثه عصبته من كانوا، ومن ترك دينا او ضياعا فلياتني فانا مولاه".

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مومن کا میں دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم‏» نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مومنوں سے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس لیے جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو چاہئے کہ ورثاء اس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آ جائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔

صحيح البخاري # 2399
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp