كِتَاب الْمُزَارَعَةِ کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان

حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال:" يقولون إن ابا هريرة يكثر الحديث والله الموعد، ويقولون ما للمهاجرين، والانصار لا يحدثون مثل احاديثه، وإن إخوتي من المهاجرين كان يشغلهم الصفق بالاسواق، وإن إخوتي من الانصار كان يشغلهم عمل اموالهم، وكنت امرا مسكينا الزم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ملء بطني، فاحضر حين يغيبون، واعي حين ينسون، وقال النبي صلى الله عليه وسلم:" يوما لن يبسط احد منكم ثوبه حتى اقضي مقالتي هذه، ثم يجمعه إلى صدره فينسى من مقالتي شيئا ابدا، فبسطت نمرة ليس علي ثوب غيرها حتى قضى النبي صلى الله عليه وسلم مقالته، ثم جمعتها إلى صدري، فوالذي بعثه بالحق ما نسيت من مقالته تلك إلى يومي هذا، والله لولا آيتان في كتاب الله ما حدثتكم شيئا ابد إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات والهدى إلى قوله الرحيم سورة البقرة آية 160".

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، آپ نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں ابوہریرہ بہت حدیث بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ مجھے بھی اللہ سے ملنا ہے (میں غلط بیانی کیسے کر سکتا ہوں) یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار آخر اس کی طرح کیوں احادیث بیان نہیں کرتے؟ بات یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین بازاروں میں خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے اور میرے بھائی انصار کو ان کی جائیداد (کھیت اور باغات وغیرہ) مشغول رکھا کرتی تھی۔ صرف میں ایک مسکین آدمی تھا۔ پیٹ بھر لینے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ہی میں برابر حاضر رہا کرتا۔ جب یہ سب حضرات غیر حاضر رہتے تو میں حاضر ہوتا۔ اس لیے جن احادیث کو یہ یاد نہیں کر سکتے تھے، میں انہیں یاد رکھتا تھا، اور ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے کپڑے کو میری اس تقریر کے ختم ہونے تک پھیلائے رکھے پھر (تقریر ختم ہونے پر) اسے اپنے سینے سے لگا لے تو وہ میری احادیث کو کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی کملی کو پھیلا دیا۔ جس کے سوا میرا بدن پر اور کوئی کپڑا نہیں تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تقریر ختم فرمائی تو میں نے وہ چادر اپنے سینے سے لگا لی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا، پھر آج تک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کی وجہ سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں بھولا) اللہ گواہ ہے کہ اگر قرآن کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کوئی حدیث کبھی بیان نہ کرتا آیت «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات‏» سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «الرحيم‏» تک۔ (جس میں) اس دین کے چھپانے والے پر، جسے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں بھیجا ہے، سخت لعنت کی گئی ہے۔

صحيح البخاري # 2350
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp