ثم حدث، عن رافع بن خديج، ان النبي صلى الله عليه وسلم" نهى كراء المزارع". فذهب ابن عمر إلى رافع، فذهبت معه، فساله، فقال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كراء المزارع، فقال ابن عمر: قد علمت انا كنا نكري مزارعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم بما على الاربعاء وبشيء من التبن.
پھر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے۔