كِتَاب الْمُزَارَعَةِ کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو:" قلت لطاوس: لو تركت المخابرة فإنهم يزعمون ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنه، قال: اي عمرو، إني اعطيهم واغنيهم وإن اعلمهم. اخبرني يعني ابن عباس رضي الله عنهما، ان النبي صلى الله عليه وسلم لم ينه عنه، ولكن قال:" ان يمنح احدكم اخاه خير له من ان ياخذ عليه خرجا معلوما".

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے طاؤس سے عرض کیا، کاش! آپ بٹائی کا معاملہ چھوڑ دیتے، کیونکہ ان لوگوں (رافع بن خدیج اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم وغیرہ) کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس پر طاؤس نے کہا کہ میں تو لوگوں کو زمین دیتا ہوں اور ان کا فائدہ کرتا ہوں۔ اور صحابہ میں جو بڑے عالم تھے انہوں نے مجھے خبر دی ہے۔ آپ کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا۔ بلکہ آپ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو (اپنی زمین) مفت دیدے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا محصول لے۔

صحيح البخاري # 2330
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp