كِتَاب الْكَفَالَةِ کتاب: کفالت کے مسائل کا بیان

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، سمع محمد بن علي، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهم، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" لو قد جاء مال البحرين قد اعطيتك هكذا وهكذا وهكذا، فلم يجئ مال البحرين حتى قبض النبي صلى الله عليه وسلم، فلما جاء مال البحرين امر ابو بكر فنادى من كان له عند النبي صلى الله عليه وسلم عدة او دين فلياتنا، فاتيته، فقلت: إن النبي صلى الله عليه وسلم، قال لي: كذا وكذا، فحثى لي حثية فعددتها، فإذا هي خمس مائة، وقال: خذ مثليها".

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن علی باقر سے سنا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بحرین سے (جزیہ کا) مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھربھر کر دوں گا لیکن بحرین سے مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نہیں آیا پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا۔ اور میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وہ باتیں فرمائی تھیں۔ جسے سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے دو گنا اور لے لو۔

صحيح البخاري # 2296
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp