كِتَاب الْوُضُوءِ کتاب: وضو کے بیان میں

حدثنا ابو الوليد، قال: حدثنا شعبة، عن محمد بن المنكدر، قال: سمعت جابرا، يقول: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني وانا مريض لا اعقل،" فتوضا وصب علي من وضوئه"، فعقلت، فقلت: يا رسول الله، لمن الميراث؟ إنما يرثني كلالة، فنزلت آية الفرائض.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا وارث کون ہو گا؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی۔

صحيح البخاري # 194
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp