كِتَاب الْوُضُوءِ کتاب: وضو کے بیان میں

حدثنا موسى، قال: حدثنا وهيب، عن عمرو، عن ابيه، شهدت عمرو بن ابي حسن سال عبد الله بن زيد، عن وضوء النبي صلى الله عليه وسلم؟ فدعا بتور من ماء، فتوضا لهم وضوء النبي صلى الله عليه وسلم،" فاكفا على يده من التور فغسل يديه ثلاثا، ثم ادخل يده في التور فمضمض واستنشق واستنثر ثلاث غرفات، ثم ادخل يده فغسل وجهه ثلاثا، ثم ادخل يده فغسل يديه مرتين إلى المرفقين مرتين، ثم ادخل يده فمسح راسه فاقبل بهما وادبر مرة واحدة، ثم غسل رجليه إلى الكعبين".

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے اپنے باپ (یحییٰ) سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میری موجودگی میں عمرو بن ابی حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان (پوچھنے والوں) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا۔ (پہلے طشت سے) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا (اور پانی لیا) پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک صاف کی، تین چلوؤں سے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا۔ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے، ایک بار۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔

صحيح البخاري # 186
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp