حدثنا آدم بن ابي إياس، قال: حدثنا ابن ابي ذئب، حدثنا سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا يزال العبد في صلاة ما كان في المسجد ينتظر الصلاة، ما لم يحدث"، فقال رجل اعجمي: ما الحدث يا ابا هريرة؟ قال: الصوت يعني الضرطة.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید المقبری نے بیان کیا، وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے۔ تاوقیتکہ وہ حدث نہ کرے۔ ایک عجمی آدمی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! حدث کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہوا جو پیچھے سے خارج ہو۔ (جسے عرف عام میں گوز مارنا کہتے ہیں)۔