كِتَاب الْوُضُوءِ کتاب: وضو کے بیان میں

حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا سفيان، قال: حدثنا الزهري، عن سعيد بن المسيب. ح وعن عباد بن تميم، عن عمه، انه شكا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل الذي يخيل إليه انه يجد الشيء في الصلاة، فقال:" لا ينفتل او لا ينصرف حتى يسمع صوتا او يجد ريحا".

ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے زہری نے سعید بن المسیب کے واسطے سے نقل کیا، وہ عباد بن تمیم سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے چچا (عبداللہ بن زید) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز (یعنی ہوا نکلتی) معلوم ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز سے) نہ پھرے یا نہ مڑے، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔

صحيح البخاري # 137
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp