كِتَاب الْوُضُوءِ کتاب: وضو کے بیان میں

حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي، قال: اخبرنا عبد الرزاق، قال: اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، انه سمع ابا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا تقبل صلاة من احدث حتى يتوضا" قال رجل من حضرموت: ما الحدث يا ابا هريرة؟ قال: فساء او ضراط.

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا۔ انہیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے ہمام بن منبہ کے واسطے سے بتلایا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حدث کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ (دوبارہ) وضو نہ کر لے۔ حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا کہ حدث ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ (پاخانہ کے مقام سے نکلنے والی) آواز والی یا بےآواز والی ہوا۔

صحيح البخاري # 135
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp