كِتَاب الْبُيُوعِ کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن حميد، عن انس بن مالك رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" نهى عن بيع الثمار حتى تزهي، فقيل له: وما تزهي؟ قال: حتى تحمر، فقال: ارايت إذا منع الله الثمرة بم ياخذ احدكم مال اخيه".

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو جواب دیا کہ سرخ ہونے کو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہی بتاؤ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھلوں پر کوئی آفت آ جائے، تو تم اپنے بھائی کا مال آخر کس چیز کے بدلے لو گے؟

صحيح البخاري # 2198
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp