حدثنا محمد هو ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت رضي الله عنهم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" رخص في العرايا ان تباع بخرصها كيلا"، قال موسى بن عقبة: والعرايا نخلات معلومات تاتيها فتشتريها.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔