كِتَاب الْبُيُوعِ کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

وقال لنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن ابن عمر رضي الله عنه، قال:" كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فكنت على بكر صعب لعمر، فكان يغلبني، فيتقدم امام القوم فيزجره عمر، ويرده، ثم يتقدم فيزجره عمر، ويرده، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لعمر: بعنيه، قال: هو لك يا رسول الله، قال: بعنيه، فباعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هو لك ياعبد الله بن عمر، تصنع به ما شئت".‏

حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک نئے اور سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ اکثر وہ مجھے مغلوب کر کے سب سے آگے نکل جاتا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر پیچھے واپس کر دیتے۔ وہ پھر آگے بڑھ جاتا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ ڈال۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو آپ ہی کا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے یہ اونٹ دیدے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اونٹ بیچ ڈالا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ بن عمر! اب یہ اونٹ تیرا ہو گیا جس طرح تو چاہے اسے استعمال کر۔

صحيح البخاري # 2115
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp