كِتَاب الصَّوْمِ کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، ان عائشة رضي الله عنها حدثته، قالت:" لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرا اكثر من شعبان، فإنه كان يصوم شعبان كله، وكان يقول: خذوا من العمل ما تطيقون، فإن الله لا يمل حتى تملوا، واحب الصلاة إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما دووم عليه وإن قلت، وكان إذا صلى صلاة داوم عليها.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے پورے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا۔ تم خود ہی اکتا جاؤ گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو سب سے زیادہ پسند فرماتے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔

صحيح البخاري # 1970
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp