كِتَاب الصَّوْمِ کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن سمي مولى ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة، انه سمع بكر بن عبد الرحمن:" كنت انا وابي فذهبت معه حتى دخلنا على عائشة رضي الله عنها، قالت: اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم إن كان ليصبح جنبا من جماع، غير احتلام، ثم يصومه".

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میرے باپ عبدالرحمٰن مجھے ساتھ لے کر عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح جنبی ہونے کی حالت میں کرتے احتلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جماع کی وجہ سے! پھر آپ روزے سے رہتے (یعنی غسل فجر کی نماز سے پہلے سحری کا وقت نکل جانے کے بعد کرتے)۔

صحيح البخاري # 1931
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp