كِتَاب الصَّوْمِ کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن عكرمة بن عبد الرحمن، عن ام سلمة رضي الله عنها،" ان النبي صلى الله عليه وسلم، آلى من نسائه شهرا، فلما مضى تسعة وعشرون يوما، غدا، او راح، فقيل له: إنك حلفت ان لا تدخل شهرا، فقال: إن الشهر يكون تسعة وعشرين يوما".

ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، ان سے عکرمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک مہینہ تک جدا رہے پھر انتیس دن پورے ہو گئے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس پر کسی نے کہا آپ نے تو عہد کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ان کے یہاں تشریف نہیں لے جائیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

صحيح البخاري # 1910
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp