حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، قال: سمعت زيد بن ثابت رضي الله عنه، يقول:" لما خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى احد رجع ناس من اصحابه، فقالت فرقة: نقتلهم، وقالت فرقة: لا نقتلهم، فنزلت: فما لكم في المنافقين فئتين سورة النساء آية 88، وقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنها تنفي الرجال، كما تنفي النار خبث الحديد".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے (یہ منافقین تھے) پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ (برے) لوگوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ میل کچیل دور کر دیتی ہے۔