كِتَاب فَضَائِلِ الْمَدِينَةِ کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني اخي، عن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضي الله عنه، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" حرم ما بين لابتي المدينة على لساني"، قال: واتى النبي صلى الله عليه وسلم بني حارثة، فقال: اراكم يا بني حارثة قد خرجتم من الحرم، ثم التفت، فقال: بل انتم فيه.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں جو زمین ہے وہ میری زبان پر حرم ٹھہرائی گئی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے اور فرمایا بنوحارثہ! میرا خیال ہے کہ تم لوگ حرم سے باہر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگ حرم کے اندر ہی ہو۔

صحيح البخاري # 1869
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp