كِتَاب الْعِلْمِ کتاب: علم کے بیان میں

حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال: إن الناس يقولون اكثر ابو هريرة، ولولا آيتان في كتاب الله ما حدثت حديثا، ثم يتلو إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات إلى قوله الرحيم سورة البقرة آية 159 - 160، إن إخواننا من المهاجرين كان يشغلهم والصفق بالاسواق، وإن إخواننا من الانصار كان يشغلهم العمل في اموالهم،" وإن ابا هريرة كان يلزم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشبع بطنه، ويحضر ما لا يحضرون، ويحفظ ما لا يحفظون".

عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، ان سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں اور (میں کہتا ہوں) کہ قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر یہ آیت پڑھی، (جس کا ترجمہ یہ ہے) کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی دلیلوں اور آیتوں کو چھپاتے ہیں (آخر آیت) «رحيم‏» تک۔ (واقعہ یہ ہے کہ) ہمارے مہاجرین بھائی تو بازار کی خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے اور انصار بھائی اپنی جائیدادوں میں مشغول رہتے اور ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جی بھر کر رہتا (تاکہ آپ کی رفاقت میں شکم پری سے بھی بےفکری رہے) اور (ان مجلسوں میں) حاضر رہتا جن (مجلسوں) میں دوسرے حاضر نہ ہوتے اور وہ (باتیں) محفوظ رکھتا جو دوسرے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔

صحيح البخاري # 118
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp