كِتَاب الْعِلْمِ کتاب: علم کے بیان میں

حدثنا صدقة، اخبرنا ابن عيينة، عن معمر، عن الزهري، عن هند، عن ام سلمة، وعمرو، ويحيى بن سعيد، عن الزهري، عن هند، عن ام سلمة، قالت: استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة، فقال:" سبحان الله، ماذا انزل الليلة من الفتن، وماذا فتح من الخزائن، ايقظوا صواحبات الحجر، فرب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة".

صدقہ نے ہم سے بیان کیا، انہیں ابن عیینہ نے معمر کے واسطے سے خبر دی، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں، زہری ہند سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، (دوسری سند میں) عمرو اور یحییٰ بن سعید زہری سے، وہ ایک عورت سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں (جو) دنیا میں (باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔

صحيح البخاري # 115
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp