كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

حدثنا عبدان، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا حبيب المعلم، عن عطاء، عن ابن عباس رضي الله عنه، قال:" لما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من حجته، قال لام سنان الانصارية: ما منعك من الحج؟ قالت: ابو فلان تعني زوجها، كان له ناضحان حج على احدهما، والآخر يسقي ارضا لنا، قال: إن عمرة في رمضان تقضي حجة، او حجة معي"، رواه ابن جريج، عن عطاء، سمعت ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، وقال عبيد الله: عن عبد الكريم، عن عطاء، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حبیب معلم نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ عورت رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے، اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے سنا، کہا انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا، ان سے عطاء نے ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔

صحيح البخاري # 1863
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp