كِتَاب الْمُحْصَرِ کتاب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں

حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن عبد الله بن معقل، قال: جلست إلى كعب بن عجرة رضي الله عنه، فسالته عن الفدية، فقال:" نزلت في خاصة، وهي لكم عامة، حملت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم والقمل يتناثر على وجهي، فقال: ما كنت ارى الوجع بلغ بك ما ارى، او ما كنت ارى الجهد بلغ بك ما ارى تجد شاة؟ فقلت: لا، فقال: فصم ثلاثة ايام، او اطعم ستة مساكين، لكل مسكين نصف صاع".

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، ان سے عبداللہ بن معقل نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر فرمایا) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اتنی زیادہ تکلیف ہو گی یا (آپ نے یوں فرمایا کہ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ جہد (مشقت) تمہیں اس حد تک ہو گی، کیا تجھ میں بکری (بطور فدیہ) دینے کی طاقت ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔

صحيح البخاري # 1816
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp