كِتَاب الْمُحْصَرِ کتاب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں

حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضي الله عنه، قال:" حين خرج إلى مكة معتمرا في الفتنة، إن صددت عن البيت صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاهل بعمرة من اجل ان النبي صلى الله عليه وسلم، كان اهل بعمرة عام الحديبية، ثم إن عبد الله بن عمر نظر في امره، فقال: ما امرهما إلا واحد، فالتفت إلى اصحابه، فقال: ما امرهما إلا واحد، اشهدكم اني قد اوجبت الحج مع العمرة، ثم طاف لهما طوافا واحدا، وراى ان ذلك مجزيا عنه واهدى".

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ فتنہ کے زمانہ میں جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ کے ارادے سے چلے تو فرمایا کہ اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو (حدیبیہ کے سال) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر آپ نے کچھ غور کر کے فرمایا کہ عمرہ اور حج تو ایک ہی ہے، اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے بھی یہی فرمایا کہ یہ دونوں تو ایک ہی ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ اب حج بھی اپنے لیے میں نے واجب قرار دیے لیا ہے پھر (مکہ پہنچ کر) آپ نے دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ آپ کا خیال تھا کہ یہ کافی ہے اور آپ قربانی کا جانور بھی ساتھ لے گئے تھے۔

صحيح البخاري # 1813
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp