كِتَاب الْعُمْرَةِ کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها،" خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين لهلال ذي الحجة، فقال لنا: من احب منكم ان يهل بالحج فليهل، ومن احب ان يهل بعمرة فليهل بعمرة، فلولا اني اهديت لاهللت بعمرة، قالت: فمنا من اهل بعمرة، ومنا من اهل بحج، وكنت ممن اهل بعمرة فاظلني يوم عرفة وانا حائض، فشكوت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ارفضي عمرتك وانقضي راسك وامتشطي واهلي بالحج، فلما كان ليلة الحصبة ارسل معي عبد الرحمن إلى التنعيم، فاهللت بعمرة مكان عمرتي".

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلے تو ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے تو وہ حج کا باندھ لے اور اگر کوئی عمرہ کا باندھنا چاہتا ہے تو وہ عمرہ کا باندھ لے۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم میں بعض نے تو عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، لیکن عرفہ کا دن آیا تو میں اس وقت حائضہ تھی، چنانچہ میں نے اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول دے اور اس میں کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھا لینا۔ (میں نے ایسا ہی کیا) جب محصب میں قیام کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو میرے ساتھ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں باندھا (جس کو توڑ ڈالا تھا)۔

صحيح البخاري # 1783
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp