كِتَاب الْعُمْرَةِ کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

قال: وسمعنا استنان عائشة ام المؤمنين في الحجرة، فقال عروة: يا اماه، يا ام المؤمنين، الا تسمعين ما يقول ابو عبد الرحمن؟ , قالت: ما يقول؟ قال: يقول إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمرات إحداهن في رجب، قالت: يرحم الله ابا عبد الرحمن، ما اعتمر عمرة إلا وهو شاهده، وما اعتمر في رجب قط".

مجاہد نے بیان کیا کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے ان کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے پوچھا اے میری ماں! اے ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کی بات آپ سن رہی ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے تھے جن میں سے ایک رجب میں کیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم کرے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جس میں وہ خود موجود نہ رہے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں تو کبھی عمرہ ہی نہیں کیا۔

صحيح البخاري # 1776
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp