كِتَاب الْحَجِّ کتاب: حج کے مسائل کا بیان

style="display:none" >حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ،" أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ امْرَأَةٍ طَافَتْ، ثُمَّ حَاضَتْ؟ , قَالَ لَهُمْ: تَنْفِرُ، قَالُوا: لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعُ قَوْلَ زَيْدٍ، قَالَ: إِذَا قَدِمْتُمْ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا، فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَسَأَلُوا، فَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ صَفِيَّةَ" , رَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے کہ مدینہ کے لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک عورت کے متعلق پوچھا کہ جو طواف کرنے کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں، آپ نے انہیں بتایا کہ (انہیں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں بلکہ) چلی جائیں۔ لیکن پوچھنے والوں نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کی بات پر عمل تو کریں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کی بات چھوڑ دیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم مدینہ پہنچ جاؤ تو یہ مسئلہ وہاں (اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے) پوچھنا۔ چنانچہ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو پوچھا، جن اکابر سے پوچھا گیا تھا ان میں ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور انہوں نے (ان کے جواب میں وہی) صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی۔ اس حدیث کو خالد اور قتادہ نے بھی عکرمہ سے روایت کیا ہے۔

صحيح البخاري # 1758
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp